تحریر ۔محمد ندیم خان
پاکستان کی تاریخ میں شہید حکیم محمد سعید ایک ایسی عظیم شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی طبِ مشرق کے فروغ، تعلیم و تحقیق، علم کی اشاعت اور خدمتِ انسانیت کے لیے وقف کر دی۔ وہ ممتاز طبیب، دانشور، مصنف، ماہرِ تعلیم اور محبِ وطن پاکستانی تھے، جن کی خدمات آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ہمدرد: ایک خواب سے قومی ادارے تک
ہمدرد کی بنیاد 1906ء میں دہلی میں حکیم حافظ عبدالمجید نے ایک چھوٹے سے دواخانے کی صورت میں رکھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے حکیم محمد سعید 9 جنوری 1948ء کو کراچی تشریف لائے اور اسی سال ہمدرد پاکستان کی بنیاد رکھی۔ آرام باغ کے ایک چھوٹے سے مطب سے شروع ہونے والا یہ سفر آگے بڑھا اور 1953ء میں ناظم آباد، کراچی میں ہمدرد کی پہلی فیکٹری قائم ہوئی۔ مشہور شربت روح افزا سمیت ہمدرد کی مصنوعات نے عوام میں اعتماد حاصل کیا اور ادارہ بتدریج ایک بڑے قومی دوا ساز ادارے میں تبدیل ہو گیا۔
حکیم محمد سعید کا یقین تھا کہ کسی ادارے کی حقیقی کامیابی صرف کاروباری ترقی میں نہیں بلکہ معاشرے کی فلاح و بہبود میں مضمر ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ہمدرد کے وسائل کو تعلیم، صحت، سائنس، تحقیق اور سماجی خدمت کے لیے بروئے کار لایا۔
مدینۃ الحکمہ: تعلیم و تحقیق کا عظیم منصوبہ
ان کے عظیم کارناموں میں مدینۃ الحکمہ کا قیام نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ ان کا خواب تھا کہ پاکستان میں ایک ایسا علمی مرکز قائم ہو جہاں تعلیم، سائنس، تحقیق اور ثقافت کو یکجا فروغ حاصل ہو۔ کراچی کے قریب تقریباً 350 ایکڑ پر پھیلا یہ منصوبہ ان کی دوراندیشی اور قومی ترقی کے وژن کا مظہر ہے۔
مدینۃ الحکمہ میں ہمدرد یونیورسٹی، بیت الحکمہ لائبریری، تعلیمی و تحقیقی ادارے اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ ہمدرد ولیج اسکول کے ذریعے اردگرد کے دیہی علاقوں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا گیا۔ حکیم محمد سعید چاہتے تھے کہ کوئی بچہ غربت یا تعلیمی سہولیات کی کمی کے باعث علم سے محروم نہ رہے۔ ان کا خواب ایک ایسا مربوط تعلیمی نظام قائم کرنا تھا جس میں بچے ابتدائی تعلیم سے یونیورسٹی تک مسلسل آگے بڑھ سکیں۔
ہمدرد فاؤنڈیشن اور علمی خدمات
حکیم محمد سعید نے ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے ذریعے تعلیم، صحت، سائنس اور فلاحی سرگرمیوں کو ادارہ جاتی بنیاد فراہم کی۔ ان کی شہادت کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ سعدیہ راشد نے ادارے کی قیادت سنبھالی اور اس کے تعلیمی و فلاحی مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
حکیم محمد سعید ایک فعال مصنف، مدیر اور دانشور بھی تھے۔ انہوں نے اردو اور انگریزی میں 200 سے زیادہ کتابیں اور مطبوعات لکھیں، مرتب کیں یا مدون کیں۔ ان کی تحریروں میں طب، صحت، اسلام، تعلیم، سائنس، تاریخ اور پاکستان جیسے موضوعات شامل تھے۔ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان میں مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہے۔ ہمدرد نونہال سمیت مختلف علمی و ادبی جرائد کے ذریعے انہوں نے نئی نسل میں علم، تحقیق اور مثبت سوچ کو فروغ دیا۔
انہوں نے بین الاقوامی علمی کانفرنسوں میں شرکت کی اور پاکستان میں بھی متعدد قومی و بین الاقوامی اجتماعات منعقد کیے، تاکہ علما، سائنس دانوں، طبی ماہرین اور دانش وروں کے درمیان علمی تبادلے کو فروغ ملے۔
شامِ ہمدرد اور ہمدرد شوریٰ
1961ء میں حکیم محمد سعید نے شامِ ہمدرد قائم کیا، جس کا مقصد علمی و ادبی سرگرمیوں اور فکری مکالمے کو فروغ دینا تھا۔ 1995ء میں اسی سلسلے کو ہمدرد شوریٰ پاکستان کی صورت میں وسعت دی گئی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ملک کو درپیش سماجی، تعلیمی، معاشی اور ثقافتی مسائل پر غور و فکر اور ان کے عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
وہ سمجھتے تھے کہ قوموں کی ترقی کے لیے صرف وسائل کافی نہیں، بلکہ علم، ذمہ دارانہ مکالمہ، کردار سازی اور اجتماعی بھلائی کا جذبہ بھی ضروری ہے۔
حکیم محمد سعید کی زندگی دیانت داری، سادگی، نظم و ضبط، حب الوطنی اور خدمتِ انسانیت کی عملی مثال تھی۔ ان کا یقین تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اچھا کردار تعمیر کرنا اور معاشرے کے لیے مفید انسان بننا ہے۔
17 اکتوبر 1998ء کو کراچی میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت پاکستان کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی، لیکن ان کا مشن ان کے قائم کردہ اداروں، علمی تصانیف اور فلاحی خدمات کے ذریعے آج بھی زندہ ہے۔
شہید حکیم محمد سعید کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں، تعلیم و تحقیق کی حوصلہ افزائی کریں، اداروں کو مضبوط بنائیں اور بلاامتیاز انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔
شہید حکیم محمد سعید کی زندگی علم، کردار، انسان دوستی اور حب الوطنی کا روشن باب ہے۔ ان کا ورثہ ہمیں ایک تعلیم یافتہ، باشعور، ہمدرد اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر کا پیغام دیتا ہے۔
پشاور کی دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے درجنوں بچوں کے جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر، انتظامی نظام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے دعوؤں پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ...
کراچی میں سڑک کی تعمیر کے دوران دو سرکاری اداروں کے درمیان جھگڑے کی خبر پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے شہر کی تعمیر و ترقی کا کوئی نیا باب کھل گیا ہو۔ عام شہری سمجھتے ہیں کہ سرکاری ادارے عوام کی سہولت کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، ان کا کام مسائل حل کرنا،...
ہمارے معاشرے کا ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم کسی ضرورت مند کو چند سکے دے کر اپنی سخاوت کے چرچے تو چاہتے ہیں، مگر جب کسی کا جائز حق ادا کرنے کی باری آتی ہے تو ہمارے ہاتھ بند اور دلائل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ہم خیرات دے کر اپنی نیکی کا اعلان...
سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں نے ملک میں فوری انصاف اور قانون کی بالادستی سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف شہری جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کسی ملزم کو عدالت...