مشرقی افریقہ کا ملک تنزانیہ، جسے ’’جمہوریہ متحدہ تنزانیہ‘‘ کہتے ہیں، ایک خوبصورت ملک ہے جو بحرِ ہند کے ساحل پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں کینیا، یوگنڈا، روانڈا اور برونڈی سے ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ کانگو، زیمبیا، ملاوی اور موزمبیق بھی اس کے ہمسایہ ممالک ہیں۔ تقریباً 62 ملین افراد پر مشتمل یہ ملک آبادی کے لحاظ سے افریقہ کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت ڈوڈوما ہے، جبکہ اس کا سب سے بڑا ساحلی شہر دارالسلام ہے۔ دیگر بڑے شہروں میں موانزا، عروشہ، مبیا اور موروگورو کے علاوہ ٹانگا بھی شامل ہے۔
یہاں سب سے بڑی تعداد بنتو زبانیں بولنے والے لوگوں کی ہے۔ اس کے علاوہ عربی، ہندی اور سواحلی کے علاوہ انگریزی بھی عام ہے۔ تنزانیہ کے افراد عیسائیت اور اسلام کے ماننے والے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ قدیم افریقی مذاہب کے ماننے والے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔
تنزانیہ کا بیشتر حصہ براعظم افریقہ سے جڑے خشک علاقوں اور خوبصورت مناظر پر مشتمل ہے، جبکہ قریبِ ساحل کے اہم جزیرے، جنہیں زنجیبار کہا جاتا ہے، بھی اس کا ایک اہم حصہ ہیں۔
26 ستمبر 2026 سے لے کر 3 اکتوبر 2026 تک ہم نے تنزانیہ کا دورہ کیا۔ دارالسلام ہم بذریعہ قطر ایئرویز پہنچے۔ ایک دن دارالسلام میں قیام کے بعد ہماری اگلی منزل بذریعہ پریسیڑن ایئرویز کلیمنجارو تھی۔ کلیمنجارو سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع اروشہ نامی شہر میں ہم نے قیام کیا۔
اروشہ شہر ایک بڑا شہر ہے اور یہاں دیکھنے کی خاص چیزوں میں پہاڑ میرو، کلچر ہیریٹیج اینڈ آرٹ گیلری کے علاوہ کئی ایک میوزیم قابلِ ذکر ہیں۔ اروشہ شہر میں لوگ بہت اچھے اخلاق کے مالک ہیں اور بہت خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ جگہ جگہ آرٹ اور پینٹنگ کی دکانیں نظر آتی ہیں۔ گو کہ تنزانیہ میں بھی غربت کافی زیادہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ترقی اور جدید عمارتیں بھی نظر آتی ہیں۔
اروشہ شہر سے ہم لوگ بذریعہ کار دارالسلام کی طرف چلے۔ راستے میں شہر موشی اور پہاڑی سلسلے، کلیمنجارو سے گزرتے ہوئے دیگر کئی شہروں، جن میں ٹانگا مشہور اور بڑا شہر ہے، کے علاوہ چھوٹے علاقوں، گاؤں اور دیہاتوں سے ہوتے ہوئے ہم تقریباً 12 گھنٹے کی مسافت کے بعد دارالسلام پہنچے۔
کلمنجارو افریقہ کا سب سے بلند پہاڑ ہے، جو تنزانیہ میں واقع ہے۔ اس کی بلند ترین چوٹی اْہورو پیک ہے، جس کی بلندی تقریباً 5,895 میٹر ہے۔ کلمنجارو ایک آتش فشانی پہاڑ ہے اور اس کی چوٹی پر برف اور گلیشیئرز پائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں اور سیاحوں کے لیے ایک مشہور مقام ہے۔
جیسا سنا تھا کلیمنجارو ویسا ہی تھا۔ چاندی کا تاج پہنے، باوقار سر اٹھائے۔
تنزانیہ میں ہائی وے اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ اس پر گاڑی 80، 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہے۔۔لیکن بس اسی حد تک۔ ہائی وے کا جو تصور میرے ذہن میں تھا، اور ایسی ہائی ویز پاکستان میں بھی موجود ہیں، وہ مجھے بہت کم ہی مقامات پر نظر آئیں۔ زیادہ تر سڑکیں عام سی ہیں۔
تنزانیہ کے جزائر، انگوجا، پیمبا وغیرہ، جنہیں عرفِ عام میں زنجیبار کے نام سے جانا جاتا ہے، میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ویسے بھی پورے تنزانیہ میں آپ جس مقام پر بھی جائیں، مسجدیں بنی ہوئی ہیں اور پانچوں وقت کی اذان کی آواز آپ کو سنائی دیتی ہے۔
ایک اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب نے بات چیت کے دوران دعوی کیا کہ درحقیقت تنزانیہ اکثریتی مسلمانوں کا ملک ہے، تاہم اسے عمومی طور پر اس طرح نہیں بتایا جاتا۔
ان آٹھ دنوں میں ہم نے تنزانیہ کا بیشتر علاقہ زمینی راستے، ہوائی سفر اور سمندری سفر کے ذریعے دیکھا۔ زنجیبار جانے کے لیے فیری لینی پڑتی ہے۔ فیری کا سفر تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ہوتا ہے۔ سمندر پْرسکون ہو تو سوا گھنٹے میں بھی پہنچا جا سکتا ہے۔
تاہم دارالسلام سے زنجیبار آنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک ملک سے نکل کر کسی دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہو رہے ہوں۔ خاص طور پر غیر ملکی افراد کو تمام ویزا اور کسٹم کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پاسپورٹ یا شناختی کارڈ دکھانا، غیر ملکیوں کے لیے ٹیکس ادا کرنا یعنی ویزا فیس دینا، سامان کی تلاشی اور مشینی اسکریننگ اس داخلے کی شرائط میں شامل ہیں۔
تنزانیہ میں تقریباً چھبیس اعشاریہ چار فیصد افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ 50 فیصد سے زائد افراد کی روزانہ آمدنی، ایک تخمینے کے مطابق، صرف تین ڈالر ہے۔ 80 فیصد افراد دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور صحت اور تعلیم کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر کی قلت بھی کافی ہے اور رسد کی ترسیل کے مسائل ہیں، جن میں سڑکوں کی کمی یا ان کا عدم اطمینان بخش ہونا شامل ہے۔
کاشتکاری میں جدید سہولیات کافقدان اور بارانی پیداوار پر منحصر ہیں۔ آبپاشی کانظام اور اوزار کاشتکاری کے جدید سہولیات سے محروم ہیں۔
گو کہ حکومت اور دیگر این جی اوز تعلیمی اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے کافی کوشاں نظر آتے ہیں، مگر بیشتر تیسری دنیا کے ممالک کی طرح بیوروکریسی، فوج اور دولت کی عدم تقسیم جیسے مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ان تمام مشکلات کے باوجود تنزانیہ میں ترقی کے امکانات موجود ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں حکومت کی جانب سے معیشت کو بہتر بنانے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے اور بڑی تعداد میں لوگ زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں سے اپنی روزی کماتے ہیں۔ تاہم جدید زرعی طریقوں کی کمی، موسمی تبدیلیوں، پانی کی قلت اور مناسب زرعی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تنزانیہ قدرتی وسائل کے اعتبار سے بھی ایک اہم ملک ہے۔ یہاں سونے، قدرتی گیس اور دیگر معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جبکہ سیاحت بھی ملکی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ماؤنٹ کلیمنجارو، سیرینگیٹی نیشنل پارک اور زنجبار جیسے مقامات ہر سال بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اگر ان شعبوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بہتر انداز میں عوامی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تو غربت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی اگرچہ حکومت نے کئی منصوبے شروع کیے ہیں لیکن دیہی اور دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی کمی، تربیت یافتہ اساتذہ کی قلت اور تعلیمی سہولیات کا فقدان اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں نسبتاً بہتر طبی سہولیات دستیاب ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز اور ماہر طبی عملے کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تیز رفتار آبادی میں اضافہ بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ آبادی بڑھنے کے ساتھ روزگار، رہائش، تعلیم، صحت اور خوراک کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے مناسب مواقع کی تلاش میں ہے اور اگر ان کے لیے فنی تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا نہ کیے گئے تو بے روزگاری اور غربت کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود تنزانیہ کا مستقبل کے روشن ہے۔ ملک کے پاس وسیع زرعی زمین، قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور نوجوان افرادی قوت موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو بہتر منصوبہ بندی، شفاف حکومتی نظام، مضبوط اداروں اور مناسب سرمایہ کاری کے ذریعے استعمال کیا جائے۔ اگر حکومت تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کو ترجیح دے اور بدعنوانی و وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے تو تنزانیہ نہ صرف غربت میں کمی لا سکتا ہے بلکہ خطے کی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معیشت بھی بن سکتا ہے۔
زنجیبار تین جزیروں پر مشتمل، ایک پاس پاس موجود بڑے جزیرے، انگوچھا(زنجیبار)، پیمبا اور مافیا کے گروپ کو کہتے ہیں۔ عام طور پر ان تینوں جزیروں کو ہی زنجیبار مانا جاتا ہے۔ اس کا پرانا نام مسالہ جزیرہ اسپائس آئی لینڈ ہے۔ یہ جزیرے مشرقی افریقائی ساحل کے بڑے اور اہم جزیرے ہیں جو بحر ہند میں دارالسلام کے ساحل کے قریب واقع ہیں۔ اس کا رقبہ کل ویکیپیڈیا کی اطلاع کے مطابق 2654 مربع کلومیٹر ہے۔ جبکہ آبادی 1889733 نفوس پر مشتمل ہے یعنی 712 افراد اوسطا” ایک مربع کلومیٹر میں مقیم ہیں۔ تمام تیسری دنیا کی طرح، اکثریت کے مکان مختصر اور تنگ علاقے میں اور امراء کے محلات۔ موجودہ عوامی جمہوریہ تنزانیہ کے ماتحت، زنجیبار، مشرقی افریقہ کی ساحلی پٹی جن میں دارالسلام ، ممباسا اور دیگر کئی اہم بندگاہیں شامل ہیں، سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ جزیرے بہت اہم ہیں۔ یہاں داخلے کے لیے تنزانیہ کا ویزہ لینا پڑتا ہے مگر داخلے کے وقت ازسرنو، ویزہ اور زنجیبار داخلہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے(جسے انشورنس فیس کا نام دیا گیا ہے۔)، اس کے علاوہ سیاحوں کو اضافی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس طرح یہ جزیرے تنزانیہ کے لیے اب بھی ماضی کی طرح سمندری قیمتی موتی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر تنزانیہ کی حکومت صرف نام کی عوامی جمہوریت ہے، عوام کی اکثریت کو غربت میں دھکیل کر صرف چند فیصد
امراء کی جنت، جیسے پاکستان اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک۔ زنجیبار میں ہوائی اور سمندری راستے سے داخلہ ممکن ہے۔ سمندری راستہ دارالسلام سے فیری کے ذریعہ جڑا ہے مگر سخت پاسپورٹ، ویزہ، داخلہ فیس کے علاوہ سامان کی تلاشی کے بعد ہی داخلے کے جھنجھٹ سے جان چھوٹتی ہے۔ جو بد نظمی اور بے ہودگی سے مرصع ہے۔ اس کی تاریخ بہت پرآشوب و پر آسائش ہے۔
زنج، یا زنجی بدنام زمانہ لفظ نیگرو کا عربی متبادل ہے۔ زنج، نوی صدی میں مشرقی افریقہ سے لائے گئے ان غلاموں کو کہاجاتا تھا، جو موجودہ عراق کے جنوب میں دجلہ اور فرات کے سنگم پر پائے جانیوالے، نمک اور شورے سے متاثرہ علاقے الزنج میں کام کیا کرتے تھے۔ یہیں سے غلاموں کی تجارت کرنے والے عرب جہاز راں، جب غلاموں کو اس جزیرے پر قید خانوں میں رکھا کرتے تھے تو اس جزیرے کو زنجیبار، کالے یا حبشیوں ساحل، کا نام دینے لگے۔
دسویں صدی میں اسلام یہاں شیراز، سے آئے ہوئے مسلمان تاجروں کے ذریعہ متعارف ہوا۔ بعد میں عربوں کی آمد شروع ہوئی۔
1698 سے 1861 دو صدی تک زنجیبار سلطنت عمان کا حصہ رہا۔ 1831 میں عمانی سلطان سعید بن سعود نے زنجیبار کے علاقے اسٹون ٹاون، پتھریلے شہر کو اپنا دارلخلافہ بنالیا۔ اور یہ شہر مشرقی افریقہ سے لائے گئے غلاموں کی تجارت کا اہم مرکز بن گیا۔ اس کے بعد ہی یہ اسپائس آئی لینڈ بن گیا چونکہ یہاں دارچینی اور لونگ کے پودوں کی کاشت کی جانے لگی۔ اس کے علاوہ ناریل کے درخت کی کاشت اس بد قسمت جزیرے کی شناخت بن گئی۔
1861 میں عمانیوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد زنجیار کی خودمختار ریاست آس پاس کے جزیروں سمیت قائم ہوگئی۔ جب کہ غلاموں کی تجارت 1897 تک جاری رہی۔
گو عمومی تاثر یہی ہے کہ جرمنوں نے۔کبھی کالونیت کے فروغ میں حصہ نہیں لیا۔ مگر زنجیبار اور دار السلام میں، چند اور دیگر ممالک کی طرح جرمنوں نے بھی یہاں اپنی کالونیاں قائم کی تھیں۔ اور پھر 1890 اصلی کالو نیت کے دلدادہ انگریزوں اور قیصر جرمن کے مابین ایک معاہدہ طے ہوا۔ جسے ہیلگو لینڈ، (بالٹک سی کے جزیرے) اور زنجیبار معاہدے کا نام دیا گیا اور انگریزوں نے زنجیبار کے انتظامات بحثیت پروٹکٹراٹ، تحفظ مہیا کرنے والے کالونی حکمراں قرار پاگئے۔
1896 میں جب حماد ابن تھوانی ابن سعید، جو تاج برطانیہ کے وفادار تھے، وفات پاگئے تو ان کے کزن خالد ابن برغاش نے ایک برطانوی فوج کے خلاف اعلان جنگ کردیا، خونریز جنگ ہوئی اور وہ مختصر ترین جنگ کے بعد برطانوی فوج نے نئے سلطان خالدکو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اور ان کی جگہ اپنے فرمابردار کو سلطان بنادیا۔ جنہوں نے 10 دسمبر 1963 کو زنجیبار اور پیمبا جزیرے کو آزاد کردیا۔ اور یوں ایک سو دس سالہ عمانی تسلط کا خاتمہ ہوگیا۔ جس دوران اکثریتی سیاہ فام افریقی باشندوں پر، اقلیتی امراء و روء سا عربی حکومت کیا کرتے تھے۔ 12 جنوری 1964 کو عوامی جمہوریہ زنجیبار اور پیمبا کی داغ بیل پڑی۔ ایسا محسوس ہوا کہ شاید افریقی سوشلسٹ دور کا آغاز ہونے جارہا ہے۔
تجارتی اہم مرکز ہونے کی وجہ سے، عمانی، پرتگالیوں اور برطانوی کالونی بھی رہا ہے۔ مختلف زمانے میں مختلف اقوام ان پر قبضہ جمانے میں
کوشاں رہیں ہیں اور اپنے اپنے نشانات مہر ثبت کرتی رہی ہیں۔
جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں زنجیبار میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا” 80 فیصد ہے اور ظاہر بات ہے کہ بیشتر کے اجداد عمان سے ہجرت کر کے آنے والے افراد ہیں جو عمان کے دارلحکومت کی وقتی زنجیبار میں منتقلی کے دوران زنجیبار آئے تھے۔ فیری پورٹ سے ہمیں ہوٹل پہنچانے والے ٹیکسی ڈرائیور صاحب بھی بے شمار لوگوں کی طرح عمانی ٹوپی پہنے نظر آئے۔ اور جمعہ کے دن تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بہت سارے زنجیباری باشندے اپنے اجداد کی یاد میں ایک بار پھر سے عمانی بھیس بدل لیتے ہیں۔
زنجیبار اور تنزانیہ کے دیگر علاقوں میں میں نے بے شمار ہندوستانی نسل کے افراد سے ملاقات ہوئی۔ ہندوستان سے منتقل ہونے والے افراد کی چوتھی نسلیں یہاں پر نظر آئیں۔ ہندوستانی ریسٹوراں جگہ جگہ موجود تھے ہندوستانی کھانے کی کوئی کہیں قلت نہیں تھی جیسا کہ اوپر عرض کا چکا ہوں مساجد بہت ہیں ساتھ ہی بے شمار مندر ہیں۔ اسی طرح جگہ جگہ گرجا گھر بھی نظر آتے ہیں۔
زنجیبار کی بندرگاہ جس علاقے میں ہے وہ جزیرے کا ایک پرانا علاقہ ہے اور، المدین الحجرہ کہلاتا ہے یعنی اسٹون ٹاؤن یہیں کسی زمانے میں سلطنت زنجیبار کا دارالخلافہ بھی تھا اور یہیں سے مصالحہ جات ناریل ہاتھی کے دانت کے ساتھ ساتھ غلاموں کی بھی تجارت کی جاتی تھی۔ یہ ایک تاریخی علاقہ ہے اور یہاں سواہیلی تہذیب کی چھاپ ہے۔ جس میں عربی اور ہندوستان طرز بھی موجود ہیں۔ اس علاقے کو یونسکو تہذیبی ورثہ کا درجہ دیا ہے۔ بیشتر سیاح یہاں آپ کو گھومتے پھرتے نظر قتے ہیں۔ یہاں پر بازار ہے مسجد ہے پرانی تاریخی عمارتوں میں میوزیم ہے۔ جو کبھی ہاوس آف ونڈرس کہلاتی تھی۔ عمارتوں میں قدیم زمانے کی مینا کاری خصوصا” دروازوں پر خراد کے کام نظر آتے ہیں۔ اسی طرح خوش نما ٹائلز گزرے دنوں کی یاد دلاتے ہیں۔ پرانا قلعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کبھی یہاں پر عمانی سلطنت نے اپنے فوجی چھاونی بنا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بعد میں آنے والی برطانوی سرکار کے کالونی کے اثرات بھی عمارتوں کی صورت میں یہاں نظر آتے ہیں۔ جرمن دور کے بھی نشانات موجود ہیں۔ برطانوی دور حکومت میں ایک ریلوے لائن بھی بچھائی گئی تھی جو شہر سے بو بو گاؤں تک جایا کرتی تھی۔
منی بس کے سفر کے دوران ہم نے یہ دیکھا کہ کس طرح چڑھنے والے مسافر خواہ عورت ہو یا مرد داخل ہوتے وقت زور سے السلام علیکم کہتے ہیں اور بس کے اندر بیٹھے مسافر جوابا” وعلیکم السلام کہتے ہیں۔ یہ بات ہمارے لیے خاصی دلچسپی کا باعث تھی۔
جرمنی ایک ایسے سیاسی اور سماجی دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں بیک وقت دو مختلف مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے رجحانات نمایاں ہو رہے ہیں: ایک طرف انتہائی دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کا بڑھتا ہوا اثر، اور دوسری طرف ملک کی دفاعی پالیسی، فوجی تیاریوں اور اسلحہ سازی کے شعبے کا...
پانی سے بجلی بنانا تو انسان نے بہت بعد میں سیکھا۔ دریا پر بند باندھ کر ڈیم بنانا اور اس سے نہریں نکالنا اور ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنا آج کے دور کے انسان کے لیے اب کچھ ایسا مشکل نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کے دور میں تو یہ بھی ایک پرانی چیز ہو چکی...
برلن کا موسم پھر سے گلابی رضائی اوڑھے سردی کی جانب گامزن تھا، بزم ادب برلن نے ایک شعری نشست سجاکر ایک بار پھر سے جذبوں کی گرماہٹ کا احساس دیا۔ یہ شعری نشست برمنگھم انگلینڈ سے آئے مشہور شاعر فاروق نسیم کی برلن آمد پر اْن کے اعزازمیں ہی برپا کی گئی تھی۔ برلن...
برطانوی وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کے غیر جمہوری رویے پر تشویش ظاہر کی تیل کی بلند قیمتیں، گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا...