کینیڈا کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں کہتے ہیں یہاں سال کے چھ موسم ہوتے ہیں، جن میں تین وہ ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں! یہاں موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلنا بھی ایک طرح کا امتحان ہے۔ صبح سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو تو آدمی سوچتا ہے آج تو گرمی ہے، لیکن باہر قدم رکھتے ہی ٹھنڈی ہوا استقبال کرتی ہے۔ ذرا آگے بڑھیں تو بادل آ جاتے ہیں، اور شام تک بارش بھی ہو سکتی ہے۔ کینیڈا میں یہ سوال کہ ، آج موسم کیسا ہے؟ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے کسی سے اس کا مستقبل پوچھ لیا ہو۔ کینیڈا کا موسم ایسا ہے کہ محکمہ موسمیات کو بھی چکمہ دے جاتا ہے۔ محکمہ کہتا ہے آج دھوپ ہوگی، موسم صاحب بادل لے آتے ہیں؛ بارش کی پیش گوئی ہو تو سورج نکل آتا ہے، اور کبھی کبھی برف کی خبر بھی ایسی اچانک آتی ہے کہ انسان سے زیادہ محکمہ موسمیات حیران نظر آتا ہے ۔کینیڈا کا موسم محکمہ موسمیات کو بھی اس طرح چکمہ دیتا ہے جیسے امتحان میں طالب علم استاد کو ۔ یہاں ایک ہی دن میں انسان کو اپنے لباس کے کئی موسم آزمانے پڑ سکتے ہیں۔ دوپہر تک بادل آ جائیں اور شام کو بارش اپنا حق جتانے لگے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ موسم آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ آخر میں پہنوں کیا؟ جیکٹ اٹھاوں یا چھتری، سن گلاسز لگاوں یا برف کے جوتے ساتھ رکھوں؟صبح جیکٹ، دوپہر کو ہلکے کپڑے، شام کو پھر جیکٹ اور اگر موسم نے اپنی مرضی چلائی تو چھتری بھی ساتھ! کبھی سورج اتنا خوبصورت نکلتا ہے کہ پارک میں بیٹھنے کو دل چاہتا ہے اور کبھی چند منٹ بعد ہوا ایسی چلتی ہے کہ آدمی سوچتا ہے، میں یہاں پکنک منانے آیا تھا یا قطب شمالی کی مہم پر؟ کینیڈا میں موسم کی یہ اچانک تبدیلیاں یہاں رہنے والوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ لوگ موسم کی پیش گوئی دیکھ کر بھی پورے یقین سے گھر سے نہیں نکلتے، کیونکہ موسم صاحب کا اپنا ہی پروگرام ہوتا ہے۔ یہاں کی ایک مشہور بات ہے کہ اگر موسم پسند نہیں تو پانچ منٹ انتظار کر لیجیے، شاید بدل جائے!
اور بارش کا بھی اپنا مزاج ہے۔ کبھی آسمان پر بادل دیکھ کر لگتا ہے آج خوب برسے گا، مگر بادل صرف دھمکی دے کر گزر جاتے ہیں۔ کبھی اچانک بارش شروع ہو جاتی ہے اور انسان چھتری ڈھونڈتے ڈھونڈتے بھیگ چکا ہوتا ہے۔ یہاں موسم کو شاید یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ کسی کو جواب دہ نہیں!لیکن کینیڈا کا اصل امتحان سردیوں میں شروع ہوتا ہے۔ برف پڑے تو سڑکیں، گاڑیاں، درخت، گھر سب سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ پہلے پہل برف دیکھ کر بڑا رومانٹک سا احساس ہوتا ہے، تصویریں بنتی ہیں، ویڈیوز بنتی ہیں، اور آدمی کہتا ہے واہ کتنا خوبصورت منظر ہے۔ لیکن جب یہی خوبصورت منظر روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے تو پھر واہ کی جگہ یا اللہ! بھی آ سکتا ہے۔ کینیڈا میں موسم خواہ کتنا ہی بدلتا رہے، لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔نہ کوئی کام کی چھٹی نہ اسکول بند ہوتے برف ہو، بارش ہو یا سرد ہوا، زندگی چلتی رہتی ہے۔ لوگ گرم کپڑے پہنتے ہیں، گاڑی صاف کرتے ہیں، راستہ بناتے ہیں اور کام پر نکل جاتے ہیں۔ موسم کو الزام دے کر زندگی روک دینے کی سہولت شاید موسم نے خود بھی نہیں رکھی۔یہ سہولت صرف پاکستان میں ہے ، مگر کینیڈا کے ان بدلتے موسموں نے مجھے پاکستان کے موسم یاد دلا دیے۔ وہاں موسم اپنی جگہ، لیکن اس کے ساتھ ہماری شکایات بھی مستقل چلتی رہتی ہیں۔ گرمی آئے تو گرمی قیامت، سردی آئے تو سردی ناقابلِ برداشت، بارش آئے تو سڑکیں زیرِ آب، اور اگر بارش نہ آئے تو پانی کی کمی کا رونا یعنی موسم کوئی بھی ہو، پاکستانی قوم کے پاس شکایت کا پورا سامان موجود ہے! اور انتظامیہ کا طرز عمل بے اعتنائی اور رویہ ایسا کہ ہمارا کیا قصور بارش گرمی سے لڑ لو بھئی ! بلکہ موسم پر سائنسی تجربات پیش کئے جاتے ہیں جیسے جب کم بارش ہوتا ہے تو کم پانی آتا ہے زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے ،پاکستان میں گرمیوں کا موسم آئے تو پنکھا، ایئرکنڈیشنر، ٹھنڈا پانی اور شربت سب یاد آتے ہیں۔ بجلی چلی جائے تو موسم اچانک قومی مسئلہ بن جاتا ہے۔ یوں کینیڈا ہو یا پاکستان، موسم انسان کو حیران کرنے میں کسی سے کم نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کینیڈا میں موسم بدلنے پر لوگ کپڑے بدلتے ہیں، اور پاکستان میں موسم بدلنے پر کبھی کبھی پورا نظام ہی بدلنے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے ، پاکستان میں گرمی صرف سورج ہی نہیں دیتا، لوڈشیڈنگ بھی اس کام میں پوری معاونت کرتی ہے۔ جون جولائی میں سورج آگ برسا رہا ہو اور عین اسی وقت بجلی صاحب بھی آرام فرمانے چلی جائیں تو عوام کا پارہ تھرمامیٹر سے مقابلہ کرنے لگتا ہے۔ پنکھا بند، اے سی بند، موبائل کی بیٹری ختم اور مچھروں کی یلغار شروع! ایسے میں آدمی کو سورج سے زیادہ بجلی کے جانے پر غصہ آتا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ سورج آسمان پر صرف روشنی دینے کے لیے نہیں بلکہ یہ دیکھنے کے لیے بھی نکلا ہے کہ بجلی آئی یا نہیں! اور اگر بجلی آنے کی خبر مل جائے تو گھر میں خوشی کی ایسی لہر دوڑتی ہے جیسے کسی نے اعلان کیا ہو کہ مہنگائی ختم ہوگئی۔ سب سے پہلے پنکھا چلتا ہے، پھر اے سی، پھر موبائل چارج ہوتے ہیں، اور کچھ ہی دیر بعد بجلی دوبارہ غائب ہو جائے ،سردیوں میں لحاف سے نکلنے کو دل نہیں چاہتا، اور برسات میں چھتری سے زیادہ نکاسی آب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اور جب مون سون آتا ہے تو بارش صرف آسمان سے نہیں برستی، بعض شہروں میں سڑکوں پر بھی بہنے لگتی ہے۔ کینیڈا میں بارش کے بعد صرف پانی غائب ہوتا ہے، پاکستان میں کبھی پانی کے ساتھ سڑک بھی غائب ہو جاتی ہے،
غریب عوام کی ساری خوشیاں اس موسم نے چھین لی ہیں بس لوگ اسی ادھیڑ بن میں سارا دن گزار دیتے ہیں کہ لو بھئی ! بجلی آگئی، اے لو،بجلی چلی گئی۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کو بدمزاج اور چڑچڑا بنادیا ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر لوگ باہم دست و گریباں ہوجاتے ہیں۔ بارش کا ایک قطرہ بجلی کے محکمے پر بم بنکر گرتا ہے بجلی صاحبہ غائب ،پاکستان میں گرمی صرف سورج نہیں دیتا، گرمی میں ہر شخص آگ بگولہ دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے سورج سے زیادہ لوگ غصہ دلا رہے ہیں!
ترقی اور خوشحالی کے محض دعوے کئے جاتے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ بارش کا موسم چلاجاتا ہے مگر اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتا ہے سڑکوں ، گلیوں محلوں میں بنی جھیلیں اس کی یاد دلاتی ہیں ان جھیلوں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ آس پاس رہنے والے کوڑا کرکٹ ڈال کر کردیتے ہیں۔ کچھ لوگ جو بے حد صفائی پسند ہوتے ہیں، وہ کوڑے میں آگ لگادیتے ہیں جس سے منظر کی دلکشی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، چند گھنٹوں کی بارش ہمیں یاد دلا دیتی ہے کہ پانی اللہ کی نعمت ضرور ہے، مگر اگر منصوبہ بندی نہ ہو تو یہی نعمت شہریوں کے لیے زحمت بھی بن سکتی ہے۔یوں لگتا ہے کینیڈا اور پاکستان دونوں کے موسم انسان کو حیران کرنے میں ماہر ہیں ،فرق صرف اتنا ہے کہ کینیڈا میں موسم بدلنے پر لوگ اپنا لباس بدلتے ہیں، جبکہ پاکستان میں موسم بدلتے ہی کبھی بجلی، کبھی سڑکیں، کبھی ٹریفک اور کبھی انتظامیہ زیرِ بحث آ جاتی ہے!یہاں کچھ
موسم ایسے ہیں جو کبھی نہیں جاتے عام عوام کے مسائل ، سیاسی ، غیرسیاسی، معاشرتی ، معاشی اتار چڑھاو، لوگوں کے موڈ اور باتیں، سیاست، کرپشن، جھوٹ ، بدعنوانی، مہنگائی اور غربت کے موسم جنہوں نے مستقل ڈیرہ ڈال رکھا ہے !۔ See less
غیر ممالک میں رہتے ہوئے ہم اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ یہاں پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں، کوئی بیمار ہو جائے تو ضروری نہیں کہ ساتھ والے گھر کو بھی معلوم ہو، نہ رشتے داروں کی آمدورفت، نہ بلاواسطہ میل جول، نہ وہ اپنائیت جس کے قصے ہم اپنے وطن کے حوالے سے...
پولیس کا محکمہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان کی علامت اور شہریوں کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پولیس کی اصل کارکردگی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شہری مصیبت میں اسے آواز دیتا ہے۔ ہم کینیڈا میں رہتے ہوئے جب پولیس کی پھرتی دیکھتے ہیں تو کبھی کبھی...
بد اچھا بدنام برا نام بڑا درشن چھوٹے اس طرح کے کئی محاورے اور مثالیں نام پر پائی جاتی ہیں ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا،آجکل فی زمانہ نام میں کچھ نہیں رکھا دیکھا جائے تو اگر نام کے ساتھ بدلگ جائے تو اس کے لئے دولت ،عزت ،شہرت کے دروازے کھل...
ہم امریکہ ،کینیڈا ، یورپ میں دیکھتے ہیں کہ (Senior Citizens) سینئر شہریوں کو بیکار یا معاشرے پر بوجھ نہیں سمجھا جاتا۔ شاپنگ مال ہوں، بڑے اسٹور ہوں یا سپر مارکیٹوں کی کیشئر جابز، ہر جگہ بڑی عمر کے مرد اور خواتین کام کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض خواتین تو ایئرلائنز میں بھی ائیرہوسٹس کے...