نیشنل میڈیافاونڈیشن کے وفد کا سندھ اور پنجاب کا دورہ
دورانِ سفر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ سفر انسان کا بہترین استاد ہے۔ یہ نہ صرف نئی جگہوں، ثقافتوں اور لوگوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ انسان کی سوچ، برداشت اور تجربات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ہر سفر زندگی کا ایک نیا سبق دے کر انسان کو زیادہ باشعور، خوداعتماد اور وسیع النظر بنا دیتا ہے۔ بعض سفر صرف تفریح کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ سفر خدمت، مقصد اور عزم کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں۔ نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا حالیہ دورہ بھی اسی نوعیت کا ایک بامقصد سفر تھا۔7 جولائی کو چیئرمین محمد علی کی قیادت میں نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا چار رکنی وفد پنجاب کے دورے پر روانہ ہوا۔ پہلا پڑا سکھر تھا، جو دریائے سندھ کے کنارے آباد سندھ کا ایک تاریخی اور تجارتی شہر ہے اور اپنی مشہور لینس ڈان برج اور سکھر بیراج کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر سے ٹریننگ سینٹر کے لیے پلاٹ اور تنظیمی دفتر کے قیام پر مثبت گفتگو ہوئی، جبکہ سکھر چیمبر آف کامرس میں نعمان آرائیں نے پرتپاک استقبال کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس کے بعد وفد ملتان پہنچا، جسے اولیائے کرام کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنی صوفیانہ روایات، مزارات، دستکاری اور قدیم تہذیب کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں معروف شاعرہ، نعت خواں اور سماجی کارکن تانیہ عابدی نے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور ملتان میں ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ملتان سے وفد لاہور پہنچا، جو پاکستان کا ثقافتی اور تاریخی دل سمجھا جاتا ہے۔ لاہور اپنی علمی، ادبی اور سیاسی اہمیت کے ساتھ ساتھ بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ، مینارِ پاکستان اور شالیمار باغ جیسے تاریخی مقامات کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں معروف ہے۔ یہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات میں نیشنل میڈیا فاونڈیشن کی خدمات کو سراہا گیا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اسی طرح لاہور چیمبر آف کامرس کے میڈیا ایڈوائزر تیمور صاحب نے بھی تنظیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں مکمل تعاون کا وعدہ کیا۔
واپسی پر وفد نے صادق آباد میں قیام کیا، جو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کا ایک اہم زرعی اور تجارتی شہر ہے اور جنوبی پنجاب کا اہم داخلی راستہ بھی شمار ہوتا ہے۔ یہاں پریس کلب میں چیئرمین محمد فرحان اقبال اور مقامی صحافیوں نے وفد کا شاندار استقبال کیا۔ صحافیوں کے مسائل، تنظیمی امور اور مستقبل کے لائح عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ نیشنل میڈیا فاونڈیشن نے صحافی برادری کے حقوق کے لیے اپنی بھرپور جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔صادق آباد میں صبح معروف ایڈوکیٹ زاہد سعید نے شاندار ناشتہ کرایا اور اسکے بعد ہم پنجاب سے روانہ ہوئے۔اس وفد میں چیئرمین محمد علی، سینئر وائس چیئرمین احمد دراز خان، وائس چیئرپرسن عظمی کمال اور پی آر او فرحانہ اشرف شامل تھیں۔دورے کے اختتام پر نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ کے لائح عمل کا جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اگست میں تنظیم کا وفد ملک بھر کا دورہ کرے گا تاکہ صحافیوں کو درپیش مسائل، بے روزگاری، بچوں کی تعلیم و تربیت اور طبی سہولیات کے حوالے سے
عملی اقدامات کو مزید مثر بنایا جا سکے۔
اس پورے سفر کے دوران میرا ذاتی مشاہدہ یہ رہا کہ کراچی کے مقابلے میں دیگر شہروں کے لوگ زیادہ مہمان نواز، خلوص رکھنے والے اور محبت سے پیش آنے والے محسوس ہوئے۔ ان کی عزت افزائی، اپنائیت اور تعاون نے اس سفر کو نہ صرف کامیاب بلکہ ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ یہی جذب محبت اور باہمی احترام پاکستان کی اصل خوبصورتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم کسی ضرورت مند کو چند سکے دے کر اپنی سخاوت کے چرچے تو چاہتے ہیں، مگر جب کسی کا جائز حق ادا کرنے کی باری آتی ہے تو ہمارے ہاتھ بند اور دلائل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ہم خیرات دے کر اپنی نیکی کا اعلان...
ہمارے معاشرے میں عورت کی کامیابی کا اعتراف کرنے سے پہلے اس کی اہلیت پر سوال اٹھانا ایک عام رویّہ بنتا جا رہا ہے۔ کسی خاتون کو اعزاز ملے، کسی ادبی محفل میں نمایاں مقام دیا جائے یا اس کی خدمات کو سراہا جائے تو بعض حلقوں سے فوراً آواز آتی ہے: ’’عورت ہے، اس...
شاعری صرف لفظوں کا خوب صورت لباس نہیں، یہ احساس کی وہ آواز ہے جو ہر شاعر کے ہاں اپنا لہجہ اختیار کر لیتی ہے۔ ایک ہی خیال کسی شاعر کے ہاں محبت بن کر اترتا ہے، دوسرے کے ہاں احتجاج بن جاتا ہے، تیسرے کے ہاں فلسفہ، چوتھے کے ہاں طنز اور پانچویں کے...
سچ بولنے والے سے سبھی توڑ کے رشتے جھوٹے کی طرف بڑھتے قدم دیکھ رہا ہوں نظام نوشاہی سنبھلی ہمیں سچ سے کوئی خاص دشمنی نہیں، بس شرط یہ ہے کہ سچ ہمارے خلاف نہ ہو۔ ہم سچائی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، محفلوں میں حق گوئی کے قصے سناتے ہیں، ادب میں اعلیٰ...